نئی دہلی، 2؍ جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے ملک کے تعلیمی نظام کو لے کر تلخ تبصرہ کیا ہے - منگل کو ایک معاملہ میں جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس ہما کوہلی کی بینچ نے کہا کہ ملک میں تعلیمی نظام ایک انڈسٹری بن چکا ہے، جنہیں بڑے کاروباری گھرانے چلا رہے ہیں - میڈیکل کالج کی فیس اتنی بڑھ چکی ہے کہ ڈاکٹری کی پڑھائی کرنے کے خواہش مند طلبہ کو یوکرین جیسے دور دراز کے ممالک تک جانا پڑ رہا ہے - سپریم کورٹ کا یہ تلخ تبصرہ فارمیسی کاؤنسل آف انڈیا کی اس عرضی پر آیا، جس میں اس نے دہلی اور کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے - کاؤنسل کے ذریعہ نئے فارمیسی کالج کھولنے پر2020-21کے سیشن سے اگلے پانچ سال تک کیلئے روک لگائی گئی تھی، جسے ہائی کورٹ نے خارج کردیا تھا -
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پی سی آئی کے حکم کے خلاف88عرضیاں ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھیں - یہ عرضیاں نئے فارمیسی کالج کھولنے کے خواہشمند لوگوں کی طرف سے دائر کی گئی تھیں، کیونکہ نئے کالج کھولنے کیلئے پی سی آئی سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے -
پی سی آئی کے اس حکم میں شمال مشرق اور ایسی ریاستوں کو چھوٹ دی گئی تھی، جہاں ڈی فارما اور بی فارما کے کالجز کی تعداد50سے کم ہے - پی سی آئی کے حکم پر روک لگاتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کاؤنسل نے اپنے دائرہ اختیار سے آگے جاکر یہ حکم پاس کیا ہے، ایسے میں اسے جاری نہیں رکھا جاسکتا -
ٹی او آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کاؤنسل کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ یہ روک اس لئے لگائی گئی، تاکہ فارمیسی کالجز کے سیلاب پر لگام کسی جاسکے، جنہیں پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے -